فکر کے زہراب میں رس گھولیے تاثیر کا
فکر کے زہراب میں رس گھولیے تاثیر کا
درد کب محتاج ہوتا ہے کسی تفسیر کا
خاک سے افلاک تک محدود آزادی ملی
پاؤں میں حلقہ رہا امکان کی زنجیر کا
آخر شب خواب کا گلشن سنہرا ہو گیا
صبح کی ڈالی پہ غنچہ کھل گیا تعبیر کا
سات رنگوں میں بکھر کر رہ گیا ایک ایک نقش
ڈھل رہا تھا ذہن میں خاکہ تری تصویر کا
روح کیا تعمیر ہوگی جسم کی تخریب سے
سنگ کج رکھا ہے تو نے شہر کی تعمیر کا
فاصلوں کی گرد بکھری منزلوں کی راہ میں
سر میں رہ جائے نہ سودا دہر کی تسخیر کا
پیکر دانائی بھی نخچیر نادانی رہا
لوگ کہتے ہیں کہ غالبؔ معتقد تھا میرؔ کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.