عجب اک بے صبوری رہ گئی ہے
عجب اک بے صبوری رہ گئی ہے
کوئی خواہش ادھوری رہ گئی ہے
ضروری جو نہیں تھی بات کہہ دی
جو کہنی تھی وہ پوری رہ گئی ہے
وہ شاہ مصر آیا بھی تو ایسے
نگاہوں میں بے نوری رہ گئی ہے
سفر انجام تک پہنچا نہیں ہے
قدم کی بس یہ دوری رہ گئی ہے
زمانے کی تو سب رسمیں نبھائیں
تمہاری جی حضوری رہ گئی ہے
جو کہنا تھا وہ لب تک آ نہ پایا
خلش بس یہ ضروری رہ گئی ہے
بچھڑ کر تجھ سے بھی عنبرؔ تری ہے
یہ مجبوری شعوری رہ گئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.