طرز اظہار بدل پیار کا انداز بدل
طرز اظہار بدل پیار کا انداز بدل
کچھ تو اقرار کا انکار کا انداز بدل
دل کی نظروں سے کبھی دیکھ اجالا کر کے
یوں ذرا حسن کے دیدار کا انداز بدل
کیا ہوا ہے اسے کیوں کر وہ خفا رہتا ہے
سوچنا چھوڑ دے گفتار کا انداز بدل
غافلوں سے تجھے کیوں کر ہے توقع اتنی
ہو سکے تو کسی بیدار کا انداز بدل
دے نئے کپڑے غریبوں کو پرانے کی جگہ
تو غنی ہے تو پھر ایثار کا انداز بدل
بن گنے بھی تو کبھی ذکر کیا کر فرحانؔ
اب تو تسبیح کے اذکار کا انداز بدل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.