ہم کو سچ کہنے کی قیمت مل گئی
ہم کو سچ کہنے کی قیمت مل گئی
کچھ نہ کہنے کی نصیحت مل گئی
مدتوں کے بعد آیا خط ترا
یوں لگا جیسے ریاست مل گئی
مل گیا ایمانداری کا ہنر
بس بزرگوں کی وراثت مل گئی
وہ سکندر بھی تو خالی ہی گیا
کیا ہوا جو تم کو دولت مل گئی
آپ مجھ سے راہ میں کیا مل گئے
شہر بھر کو اک شرارت مل گئی
اور کیا جینے کو گلشنؔ چاہیئے
تھوڑا غم تھوڑی محبت مل گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.