نہیں معلوم کہاں اور کدھر ایجاد کیا
نہیں معلوم کہاں اور کدھر ایجاد کیا
میں نے کس وجد و تجاود میں سر ایجاد کیا
عالم عشق تو اک ذرہ تھا جب ہم آئے
اس قدر بنتا گیا جس قدر ایجاد کیا
تیری خاطر ترا دل رکھنے کو میں نے مرے دوست
قطرۂ خوں کو جمایا جگر ایجاد کیا
سنگ پر سنگ رگڑنے سے ہوا جو پیدا
اسی آہنگ نے رقص شرر ایجاد کیا
سب ہی سوتے تھے عدم میں مری بیداری نے
نور پیدا کیا وقت سحر ایجاد کیا
ہو گیا کوئی تو دریافت یہاں پر اک دم
کسی نے خود کو مگر عمر بھر ایجاد کیا
خون دل نے مرے خورشید کو روغن بخشا
اس کی آنکھوں کی چمک نے گہر ایجاد کیا
قبل آدم بھی عجب دور انوثت تھا کہ جب
سبھی ماداؤں نے مل کر یہ نر ایجاد کیا
وہ تصور وہ تخیل وہ توہم تھا مراشؔ
جس نے عبداللہؔ کو بار دگر ایجاد کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.