خوشبو کی طرح دل میں سمائیں گے کسی دن
خوشبو کی طرح دل میں سمائیں گے کسی دن
نغمے مرے لب پر ترے آئیں گے کسی دن
انصاف ترا دیکھنے اے حسن جہانگیر
ہم عدل کی زنجیر ہلائیں گے کسی دن
یہ سوچ کے بیٹھے رہے دہلیز پہ ان کی
محفل میں ہمیں بھی وہ بلائیں گے کسی دن
خاموش ہیں اس وقت تری بزم میں لیکن
جو بات سنانی ہے سنائیں گے کسی دن
دیوار جو نفرت کی اٹھاتے ہیں دلوں میں
ہم ہاتھ سے ان کے ہی گرائیں گے کسی دن
کیا فائدہ اے برق نشیمن کو جلا کر
تو جانتی ہے ہم تو بنائیں گے کسی دن
مانگی ہوئی عزت نہیں عزت یہ بتانے
سرخاب کا پر ہم بھی لگائیں گے کسی دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.