Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

شاہ نصیر

نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

شاہ نصیر

MORE BYشاہ نصیر

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    دکھا کے دست حنائی نہ خوں بہا دل کا

    کہ اور رنگ سے لوں گا میں خوں بہا دل کا

    میں طفل اشک کو مژگاں پہ دیکھ حیراں ہوں

    کہ نور دیدہ ہے یا ہے بالکا دل کا

    تو آئنے پہ نہ اپنے کر اے سکندر ناز

    کہ ہم بھی رکھتے ہیں جام جہاں نما دل کا

    بہشت پہنچے ہے زاہد کب اس کی وسعت کو

    عجب روش کا ہے یہ باغ دل کشا دل کا

    بجا ہوں سر بہ گریباں کہ اس کے دامن تک

    نہ پہنچا آہ کبھی دست نارسا دل کا

    ترے خدنگ مژہ سے ہے یک قلم مجروح

    نہ پوچھ اے بت بدکیشں ماجرا دل کا

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر

    سبو بدوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    ہزار بین کہیں کیوں نہ اہل بینائی

    کہ صاف بو قلموں ہے یہ آئنا دل کا

    بہار تجھ کو دکھائیں گے ہم بھی اے گل رو

    کسی روش سے جو غنچہ کبھی کھلا دل کا

    ظہور جلوۂ معبود ہے بہر صورت

    رکھا ہے نام بجا خانۂ خدا دل کا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول

    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    قرار و طاقت و صبر و خرد ہوئے سب گم

    تمہاری زلف میں ابتر ہے حال کیا دل کا

    کہیں گے ہم یہ سراسر جو کوئی پوچھے گا

    سواد ہند میں لوٹا ہے قافلہ دل کا

    نہ کیونکہ آہ سے خاطر نشاں ہو اب میری

    کہ تیر یہ نہیں کرتا کبھی خطا دل کا

    ہمارے داغ سے بھونرے کو کیا بھلا نسبت

    کہ وہ رفیق ہے گل کا یہ آشنا دل کا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ

    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے