مضمحل ہارا ہوا تنہا ملا
مضمحل ہارا ہوا تنہا ملا
جو ملا اس شہر میں ایسا ملا
کھنچ گئے ہیں اس قدر اب فاصلے
اپنے پائیں باغ میں صحرا ملا
کل جن آنکھوں میں اگا کرتے تھے خواب
آج ان میں کل کا اندیشہ ملا
پیاس بیچی جس سمندر کے لئے
وہ سمندر اور کبھی پیاسا ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.