درد کی انتہا رہا ہوں میں
درد کی انتہا رہا ہوں میں
اس لئے مسکرا رہا ہوں میں
یاد ایام تیری چوکھٹ پر
ایک مدت کھڑا رہا ہوں میں
ظلمت شب چراغ الفت ہوں
آندھیوں میں ڈٹا رہا ہوں میں
لفظ و معنی سے ماورا ہو کر
زخم دل کی صدا رہا ہوں میں
ہاں سر بزم سچ کہا تھا کبھی
اس کی قیمت چکا رہا ہوں میں
سرخ رو ہو کے سوئے مقتل اب
پا بہ زنجیر جا رہا ہوں میں
خون سے داستاں رقم کی ہے
کیوں کہوں با وفا رہا ہوں میں
راز بتلاؤں شاعری کا کیا
بے خودی میں پڑا رہا ہوں میں
اک خوشی کی تلاش میں اکرمؔ
آنسوؤں سے نہا رہا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.