اس کا رد ثبات آنکھوں سے
اس کا رد ثبات آنکھوں سے
ڈھہ گیا سومنات آنکھوں سے
دل بھلا پھر جواب کیا دیتا
اس نے پوچھی تھی ذات آنکھوں سے
اک مسافر کی زندگی کیا ہے
دیکھنا شش جہات آنکھوں سے
اک ذرا اس کی بے ادائی سے
گر گئی کائنات آنکھوں سے
اس کے وعدوں کے جھلملانے سے
کانپتی ہے یہ رات آنکھوں سے
اس کی باتوں کا کیا بھروسہ پھر
وہ جو کرتا ہے بات آنکھوں سے
اپنے شعروں کی یہ حقیقت ہے
ہم نے جی ہے حیات آنکھوں سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.