اس سے تمہیں کیا بحث برا ہو کہ بھلا ہو
اس سے تمہیں کیا بحث برا ہو کہ بھلا ہو
دل پھیر دو للہ اگر تم نے لیا ہو
میں غیر سے لڑتا ہوں اسی پر تو خفا ہو
تم مجھ سے قسم لے لو اگر کچھ بھی کہا ہو
جھوٹا تو کبھی آپ کو میں کہہ نہیں سکتا
ہاں وعدہ فراموش کہا ہو تو کہا ہو
اب تک تھی یہ حسرت کہیں دم بھر کو ملو تم
اور اب یہ تمنا ہے کہ دم بھر نہ جدا ہو
بے درد کو بے مہر کو اک دشمن جاں کو
چاہا تو کسے اس دل مضطر کا برا ہو
آفت ہے تو اس کی ہے جو دل تم سے لگائے
شامت ہے تو اس کی ہے جو پابند وفا ہو
ہر وقت وہ اب ساتھ تو رہتے ہیں تمہارے
یہ کیا کہ قمرؔ ہاتھ بھی گردن میں پڑا ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.