تری کچھ آج رنگت سانولی معلوم ہوتی ہے
تری کچھ آج رنگت سانولی معلوم ہوتی ہے
کوئی تو آہ سینے میں دبی معلوم ہوتی ہے
منایا جا رہا ہے جشن سورج کے نکلنے کا
مگر مجھ کو تو اب بھی تیرگی معلوم ہوتی ہے
میں ایسے شہر کو شہر محبت کہہ نہیں سکتا
جہاں خطرے میں ہر پل زندگی معلوم ہوتی ہے
کبھی مجبوریاں اوروں پہ وہ ظاہر نہیں کرتا
جسے ذلت سے بہتر مفلسی معلوم ہوتی ہے
عجب ہے ڈھنگ وارثؔ آج کل لوگوں کے جینے کا
بشر کہتے ہوئے شرمندگی معلوم ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.