مجھے بنایا گیا اور پھر بچی مٹی
مجھے بنایا گیا اور پھر بچی مٹی
تو اضطراب بنا دی گئی وہی مٹی
تمہارے شہر کی جانب ہی جانے لگتی ہے
ہوا کے ساتھ مری قبر سے اڑی مٹی
تمام عمر سفر میں ہی کٹ گئی اپنی
تمام عمر نہ کپڑوں سے جھڑ سکی مٹی
لو پھر سے آ گئی ہائے ہماری سال گرہ
لو پھر حیات کی دیوار سے چھٹی مٹی
کسی نگاہ کی جادوگری سے بکھری ہے
یقین مانو بڑی سخت تھی مری مٹی
وہ سب نصیب کے صحرا میں غرق آب ہوئے
جنہوں نے بر سر دریا اڑائی تھی مٹی
تمہارا کھیل نمٹ ہی چکا ہے کاشف بیگؔ
سبھی نے تین دفعہ تم پہ ڈال دی مٹی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.