Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی مٹی سے رشتہ نبھایا کرو

شارقہ ملک

اپنی مٹی سے رشتہ نبھایا کرو

شارقہ ملک

MORE BYشارقہ ملک

    اپنی مٹی سے رشتہ نبھایا کرو

    جب بھی فرصت ملے گاؤں جایا کرو

    اپنے پرکھوں کی جب یاد آئے تمہیں

    پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ جایا کرو

    ہیں نئی قربتیں بھی ضروری مگر

    کچھ پرانے بھی رشتے نبھایا کرو

    اس مئی جون کی چیختی دھوپ میں

    کچھ پرندوں کو پانی پلایا کرو

    سوکھ کر آنکھیں پتھر سی ہو جائیں گی

    اتنے آنسو نہ ان سے بہایا کرو

    سخت دل ہے تو نرمی سے جیتو اسے

    یعنی پتھر سے ہیرے بنایا کرو

    آسمانوں میں اڑنے کی کوشش میں تم

    گر بھی جاؤ تو پر پھڑپھڑایا کرو

    کیا ضروری ہے کوئی بہانا ہی ہو

    بے سبب بھی کبھی مسکرایا کرو

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے