اپنی مٹی سے رشتہ نبھایا کرو
اپنی مٹی سے رشتہ نبھایا کرو
جب بھی فرصت ملے گاؤں جایا کرو
اپنے پرکھوں کی جب یاد آئے تمہیں
پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ جایا کرو
ہیں نئی قربتیں بھی ضروری مگر
کچھ پرانے بھی رشتے نبھایا کرو
اس مئی جون کی چیختی دھوپ میں
کچھ پرندوں کو پانی پلایا کرو
سوکھ کر آنکھیں پتھر سی ہو جائیں گی
اتنے آنسو نہ ان سے بہایا کرو
سخت دل ہے تو نرمی سے جیتو اسے
یعنی پتھر سے ہیرے بنایا کرو
آسمانوں میں اڑنے کی کوشش میں تم
گر بھی جاؤ تو پر پھڑپھڑایا کرو
کیا ضروری ہے کوئی بہانا ہی ہو
بے سبب بھی کبھی مسکرایا کرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.