Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مری جانب روانہ ہے اجل آہستہ آہستہ

عمیر نجمی

مری جانب روانہ ہے اجل آہستہ آہستہ

عمیر نجمی

MORE BYعمیر نجمی

    مری جانب روانہ ہے اجل آہستہ آہستہ

    بہت محتاط چپ پنجوں کے بل آہستہ آہستہ

    اکیلا تھا مگر اب حلقۂ احباب رکھتا ہوں

    کیا ہے ایک مصرع کو غزل آہستہ آہستہ

    کوئی گزرا تھا اک دن سامنے سے جلدبازی میں

    گزارہ میں نے برسوں تک وہ پل آہستہ آہستہ

    کسی کے اشکوں نے چھینی مری خود سے وفاداری

    نمک ہوتا گیا پانی میں حل آہستہ آہستہ

    گھٹن میں اس کی مدھم سانس یوں گالوں کو چھوتی تھی

    کوئی جھلتا ہو جیسے مورچھل آہستہ آہستہ

    کچھ اتنا ساتھ رہتی ہے مجھے ڈر ہے کمی تیری

    نہ بن جائے ترا نعم البدل آہستہ آہستہ

    بدل آیا ہوں مستقبل میں ترتیب حوادث کو

    پڑے گا اب زمانوں میں خلل آہستہ آہستہ

    تبھی عجلت میں ان کو ترک کرنا غیرممکن تھا

    تعلق بنتے تھے پہلے پہل آہستہ آہستہ

    اتر آیا مری آنکھوں میں آخر موتیا نجمیؔ

    کھلے جھیلوں کی سطحوں پر کنول آہستہ آہستہ

    مأخذ :
    • کتاب : آخری تصویر (Pg. 24)
    • Author : عمیر نجمی
    • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے