مری جانب روانہ ہے اجل آہستہ آہستہ
مری جانب روانہ ہے اجل آہستہ آہستہ
بہت محتاط چپ پنجوں کے بل آہستہ آہستہ
اکیلا تھا مگر اب حلقۂ احباب رکھتا ہوں
کیا ہے ایک مصرع کو غزل آہستہ آہستہ
کوئی گزرا تھا اک دن سامنے سے جلدبازی میں
گزارہ میں نے برسوں تک وہ پل آہستہ آہستہ
کسی کے اشکوں نے چھینی مری خود سے وفاداری
نمک ہوتا گیا پانی میں حل آہستہ آہستہ
گھٹن میں اس کی مدھم سانس یوں گالوں کو چھوتی تھی
کوئی جھلتا ہو جیسے مورچھل آہستہ آہستہ
کچھ اتنا ساتھ رہتی ہے مجھے ڈر ہے کمی تیری
نہ بن جائے ترا نعم البدل آہستہ آہستہ
بدل آیا ہوں مستقبل میں ترتیب حوادث کو
پڑے گا اب زمانوں میں خلل آہستہ آہستہ
تبھی عجلت میں ان کو ترک کرنا غیرممکن تھا
تعلق بنتے تھے پہلے پہل آہستہ آہستہ
اتر آیا مری آنکھوں میں آخر موتیا نجمیؔ
کھلے جھیلوں کی سطحوں پر کنول آہستہ آہستہ
- کتاب : آخری تصویر (Pg. 24)
- Author : عمیر نجمی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.