یہ کیسی مہربانی ہو رہی ہے
یہ کیسی مہربانی ہو رہی ہے
شرافت پانی پانی ہو رہی ہے
نئے کردار ہیں لیکن ابھی تک
قلا بازی پرانی ہو رہی ہے
چمن میں پھول مسلے جا رہے ہیں
عجب سی باغبانی ہو رہی ہے
نہ مسجد ہے نہ مے خانہ سلامت
یہ کیسی حکمرانی ہو رہی ہے
حرم کے تاجروں سے آج کل بس
بتوں کی پاسبانی ہو رہی ہے
یہاں کی درس گاہ مکر و فن میں
ہماری رائیگانی ہو رہی ہے
سر محفل ستم کی انتہا بھی
تغافل کی زبانی ہو رہی ہے
میاں بنیاد کے پتھر ہیں ہم لوگ
ہمیں سے بد گمانی ہو رہی ہے
زمانہ جانتا ہے کس کے دم سے
جہاں میں ضو فشانی ہو رہی ہے
کبھی آیا تھا وہ بزم طرب میں
ابھی تک گلفشانی ہو رہی ہے
غزل کے خوش نما لہجے میں اکرمؔ
ہماری حق بیانی ہو رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.