Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کیسی مہربانی ہو رہی ہے

شمیم اکرم رحمانی

یہ کیسی مہربانی ہو رہی ہے

شمیم اکرم رحمانی

MORE BYشمیم اکرم رحمانی

    یہ کیسی مہربانی ہو رہی ہے

    شرافت پانی پانی ہو رہی ہے

    نئے کردار ہیں لیکن ابھی تک

    قلا بازی پرانی ہو رہی ہے

    چمن میں پھول مسلے جا رہے ہیں

    عجب سی باغبانی ہو رہی ہے

    نہ مسجد ہے نہ مے خانہ سلامت

    یہ کیسی حکمرانی ہو رہی ہے

    حرم کے تاجروں سے آج کل بس

    بتوں کی پاسبانی ہو رہی ہے

    یہاں کی درس گاہ مکر و فن میں

    ہماری رائیگانی ہو رہی ہے

    سر محفل ستم کی انتہا بھی

    تغافل کی زبانی ہو رہی ہے

    میاں بنیاد کے پتھر ہیں ہم لوگ

    ہمیں سے بد گمانی ہو رہی ہے

    زمانہ جانتا ہے کس کے دم سے

    جہاں میں ضو فشانی ہو رہی ہے

    کبھی آیا تھا وہ بزم طرب میں

    ابھی تک گلفشانی ہو رہی ہے

    غزل کے خوش نما لہجے میں اکرمؔ

    ہماری حق بیانی ہو رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے