منزل ملی اسی کو اسی اک لگن کے ساتھ
منزل ملی اسی کو اسی اک لگن کے ساتھ
چھانی ہو خاک جس نے بھی اپنے بدن کے ساتھ
اس شخص سے نہ پوچھیے اس کی خوشی کا حال
جس نے گزارے دن کئی اک پیرہن کے ساتھ
اپنے کئے پہ اس کو ندامت نہیں ہے آج
رہبر کھڑا ہے میرا کسی راہزن کے ساتھ
جس شخص کو یہ رنج ہو مہکیں گے اب تو پھول
کھلواڑ وہ ہی کرتا ہے اپنے چمن کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.