کچھ الگ کرنا ہے تو پھر باندھ مشکل قافیہ
کچھ الگ کرنا ہے تو پھر باندھ مشکل قافیہ
کرتا ہے اپنی طرف سامع کو مائل قافیہ
مصرع اول کی زینت ذکر ہے فرہاد کا
مصرع ثانی میں رکھو رقص بسمل قافیہ
تم مہیا تو کرو جاناں محبت کی ردیف
شوق سے بن جائے گا ناچیز کا دل قافیہ
محنتوں سے کچھ تو رنگ آیا مرے اشعار میں
کر رہا ہے لفظ کے جھرمٹ میں جھلمل قافیہ
محفلوں میں ذہن میں آتی ہے تنہائی ردیف
اور تنہائی میں ہو جاتا ہے محفل قافیہ
بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہے
ہو سکے تو لائیے میرے مقابل قافیہ
بیٹھتا ہوں شعر کہنے جب میں اظہرؔ خود بخود
لفظوں کی زنبیل سے ہوتا ہے حاصل قافیہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.