ہمارے راستے میں کوئی مجبوری نہیں آتی
ہمارے راستے میں کوئی مجبوری نہیں آتی
خدا کا شکر ہے دنیا ہمیں پوری نہیں آتی
یہاں سانسیں کمانے کا بھی اتنا بوجھ ہوتا ہے
مشقت جسم کھا جاتی ہے مزدوری نہیں آتی
میں ان کو ایک دوجے کی بھلی باتیں بتاتا ہوں
سنا ہے اس طرح لوگوں میں مغروری نہیں آتی
مجھے درپیش ہے گھر میں بسی دنیا کی رکھوالی
مگر دفتر سے اک افسر کی منظوری نہیں آتی
جو سجدوں میں رکھے جائیں وہ نیزوں پر بھی آتے ہیں
خدا کے نام لیواؤں پہ معذوری نہیں آتی
میں اس مجمع کا حصہ ہوں جہاں لوگوں کے حصے میں
بدن پر پورے کپڑے ہوں تو مشہوری نہیں آتی
بہت نزدیک ہونا بھی وفا کا عیب ہے حارثؔ
ذرا سے فاصلے پر درمیاں دوری نہیں آتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.