Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ماضی کو برا کہتے ہیں ہم لوگ عجب ہیں

مرتضیٰ برلاس

ماضی کو برا کہتے ہیں ہم لوگ عجب ہیں

مرتضیٰ برلاس

MORE BYمرتضیٰ برلاس

    ماضی کو برا کہتے ہیں ہم لوگ عجب ہیں

    پہلے بھی تو حالات یہی تھے کہ جو اب ہیں

    ہے زعم کہ شیشہ کوئی محفوظ نہیں ہے

    پتھر بھی مرے دور کے اب داد طلب ہیں

    اب میں ہی سہی کوئی تو شب جاگ کے کاٹے

    جو جاگنے والے تھے وہ سب غرق طرب ہیں

    اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لے

    ورنہ کسی طوفان کے آثار تو سب ہیں

    تارے جو نمائندۂ خورشید تھے شب کو

    اب صبح کی زد پر وہی واماندۂ شب ہیں

    کیا بھر گئے وہ زخم ہزیمت جو لگے تھے

    ہنسنے کے جواز اب کے بہت غور طلب ہیں

    جس شاخ پہ بیٹھے ہوں اسی شاخ کو کاٹیں

    ہم لوگ ہی خود اپنی تباہی کا سبب ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے