ماضی کو برا کہتے ہیں ہم لوگ عجب ہیں
ماضی کو برا کہتے ہیں ہم لوگ عجب ہیں
پہلے بھی تو حالات یہی تھے کہ جو اب ہیں
ہے زعم کہ شیشہ کوئی محفوظ نہیں ہے
پتھر بھی مرے دور کے اب داد طلب ہیں
اب میں ہی سہی کوئی تو شب جاگ کے کاٹے
جو جاگنے والے تھے وہ سب غرق طرب ہیں
اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لے
ورنہ کسی طوفان کے آثار تو سب ہیں
تارے جو نمائندۂ خورشید تھے شب کو
اب صبح کی زد پر وہی واماندۂ شب ہیں
کیا بھر گئے وہ زخم ہزیمت جو لگے تھے
ہنسنے کے جواز اب کے بہت غور طلب ہیں
جس شاخ پہ بیٹھے ہوں اسی شاخ کو کاٹیں
ہم لوگ ہی خود اپنی تباہی کا سبب ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.