Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ زندگی کا کوئی فلسفہ بنایا تھا

باسط پتافی

نہ زندگی کا کوئی فلسفہ بنایا تھا

باسط پتافی

MORE BYباسط پتافی

    نہ زندگی کا کوئی فلسفہ بنایا تھا

    نہ میں نے اپنے لیے موت کو جگایا تھا

    نہ تیرے چاند سے مطلب نہ چاندنی سے غرض

    بس ایک شعر سے اپنا عدم بسایا تھا

    نہ تیری سرد ہواؤں سے دل دکھاؤں گا

    نہ تیری لو سے کبھی اپنا دل جلایا تھا

    نہ تیرے سبع سماوات پر اڑان بھری

    نہ تیری سات زمینوں پہ گیت گایا تھا

    نہ اس نے پاؤں سے زنجیر ہی نکالی تھی

    نہ اپنی آنکھ سے پردہ کبھی ہٹایا تھا

    وہ ایک شخص جو اترا تھا صورت الہام

    نہ استعارہ نہ افسوں نہ وہ کنایہ تھا

    وہ اک کلی جو چٹکنے لگی تھی پت جھڑ میں

    اس اک کلی کے بھروسے ہی ابر چھایا تھا

    تھی میرے خواب کے اندر وہ تیرگی روشن

    عجیب دھوپ تھی اس پل عجیب سایہ تھا

    مجھے بھی وقت کے معنی پتہ نہ تھے باسطؔ

    پھر ایک روز کسی نے گلے لگایا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے