نہ زندگی کا کوئی فلسفہ بنایا تھا
نہ زندگی کا کوئی فلسفہ بنایا تھا
نہ میں نے اپنے لیے موت کو جگایا تھا
نہ تیرے چاند سے مطلب نہ چاندنی سے غرض
بس ایک شعر سے اپنا عدم بسایا تھا
نہ تیری سرد ہواؤں سے دل دکھاؤں گا
نہ تیری لو سے کبھی اپنا دل جلایا تھا
نہ تیرے سبع سماوات پر اڑان بھری
نہ تیری سات زمینوں پہ گیت گایا تھا
نہ اس نے پاؤں سے زنجیر ہی نکالی تھی
نہ اپنی آنکھ سے پردہ کبھی ہٹایا تھا
وہ ایک شخص جو اترا تھا صورت الہام
نہ استعارہ نہ افسوں نہ وہ کنایہ تھا
وہ اک کلی جو چٹکنے لگی تھی پت جھڑ میں
اس اک کلی کے بھروسے ہی ابر چھایا تھا
تھی میرے خواب کے اندر وہ تیرگی روشن
عجیب دھوپ تھی اس پل عجیب سایہ تھا
مجھے بھی وقت کے معنی پتہ نہ تھے باسطؔ
پھر ایک روز کسی نے گلے لگایا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.