Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فکر سے خود کو چھڑانا چاہیے

سید محمد وقیع

فکر سے خود کو چھڑانا چاہیے

سید محمد وقیع

MORE BYسید محمد وقیع

    فکر سے خود کو چھڑانا چاہیے

    پھر سے بچپن کا زمانہ چاہیے

    موت کی دستک سنائی دے چکی

    کس لیے اب جینا آنا چاہیے

    چپ سے سہنا ہو جہاں تذلیل کو

    پھر وہاں قطعاً نہ جانا چاہیے

    لڑ رہے ہو بے سبب کیا بات ہے

    کیا بچھڑنے کا بہانہ چاہیے

    غم ہو ان کا میری خوشیوں میں شریک

    عید پر نوحہ سنانا چاہیے

    کامیابی کی ہے دشمن بد نظر

    بات کو تھوڑا چھپانا چاہیے

    جان لینا چاہیے پہلے مزاج

    پھر کہیں پر دل لگانا چاہیے

    ہے خبر دل ٹوٹ جائے گا مگر

    دوستوں کو آزمانا چاہیے

    ایک دم رخصت نہیں ہوتے وقیعؔ

    پہلے تھوڑا پاس آنا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے