فکر سے خود کو چھڑانا چاہیے
فکر سے خود کو چھڑانا چاہیے
پھر سے بچپن کا زمانہ چاہیے
موت کی دستک سنائی دے چکی
کس لیے اب جینا آنا چاہیے
چپ سے سہنا ہو جہاں تذلیل کو
پھر وہاں قطعاً نہ جانا چاہیے
لڑ رہے ہو بے سبب کیا بات ہے
کیا بچھڑنے کا بہانہ چاہیے
غم ہو ان کا میری خوشیوں میں شریک
عید پر نوحہ سنانا چاہیے
کامیابی کی ہے دشمن بد نظر
بات کو تھوڑا چھپانا چاہیے
جان لینا چاہیے پہلے مزاج
پھر کہیں پر دل لگانا چاہیے
ہے خبر دل ٹوٹ جائے گا مگر
دوستوں کو آزمانا چاہیے
ایک دم رخصت نہیں ہوتے وقیعؔ
پہلے تھوڑا پاس آنا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.