Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ

ناصر کاظمی

موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ

    تو نے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ

    ہاتھ زخمی ہیں تو پلکوں سے گل منظر اٹھا

    پھول تیرے ہیں نہ میرے باغ کس کا ہے نہ پوچھ

    رات اندھیری ہے تو اپنے دھیان کی مشعل جلا

    قافلے والوں میں کس کو کس کی پروا ہے نہ پوچھ

    جو ترا محرم ملا اس کو نہ تھی اپنی خبر

    شہر میں تیرا پتا کس کس سے پوچھا ہے نہ پوچھ

    یوں تو جتنے پھول سے چہرے ہیں کمھلا جائیں گے

    ان بھری آبادیوں میں کون تنہا ہے نہ پوچھ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے