Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سمٹ کے عشق میں یکسر دھمال ڈالتا ہے

محمد مستحسن جامی

سمٹ کے عشق میں یکسر دھمال ڈالتا ہے

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    سمٹ کے عشق میں یکسر دھمال ڈالتا ہے

    فقیر جاں سے گزر کر دھمال ڈالتا ہے

    بدن کے تار سدا موج میں نہیں ہوتے

    کبھی کبھار قلندر دھمال ڈالتا ہے

    یہی وہ در ہے جہاں ذات بھول جاتی ہے

    یہیں پہ ادنیٰ و برتر دھمال ڈالتا ہے

    اسے ہے اذن سو اس کا کمال مت پوچھو

    وہ اک اشارے پہ فر فر دھمال ڈالتا ہے

    اگر وہ آئے تو ساحل پہ پاؤں چھونے کو

    تمام رات سمندر دھمال ڈالتا ہے

    وہ محو ایسا ہے مستی میں اور ہستی میں

    کہ سب کے سامنے آ کر دھمال ڈالتا ہے

    رضاؔ کو مست حسن آپ نے بنایا ہے

    اسی لئے تو یہ نوکر دھمال ڈالتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے