سمٹ کے عشق میں یکسر دھمال ڈالتا ہے
سمٹ کے عشق میں یکسر دھمال ڈالتا ہے
فقیر جاں سے گزر کر دھمال ڈالتا ہے
بدن کے تار سدا موج میں نہیں ہوتے
کبھی کبھار قلندر دھمال ڈالتا ہے
یہی وہ در ہے جہاں ذات بھول جاتی ہے
یہیں پہ ادنیٰ و برتر دھمال ڈالتا ہے
اسے ہے اذن سو اس کا کمال مت پوچھو
وہ اک اشارے پہ فر فر دھمال ڈالتا ہے
اگر وہ آئے تو ساحل پہ پاؤں چھونے کو
تمام رات سمندر دھمال ڈالتا ہے
وہ محو ایسا ہے مستی میں اور ہستی میں
کہ سب کے سامنے آ کر دھمال ڈالتا ہے
رضاؔ کو مست حسن آپ نے بنایا ہے
اسی لئے تو یہ نوکر دھمال ڈالتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.