کیا ملے واصفؔ کی مستی کا سراغ
کیا ملے واصفؔ کی مستی کا سراغ
چشم ساقی نے کیا روشن چراغ
ہر قدم پر اک نئی منزل ملی
گل کھلے ہیں یا ہمارے دل کے داغ
خود ہوا ہے جلوہ گر حسن ازل
ہے جنوں کی سلطنت عاجز دماغ
مستیٔ رنداں سے جھوم اٹھی زمیں
آسماں ہے سرنگوں جیسے ایاغ
دل میں آنکھیں ہیں تو ہے آنکھوں میں دل
باغ میں ہیں پھول اور پھولوں میں باغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.