دل مجھ سے کہہ رہا ہے وہ بت رام ہو گیا
دل مجھ سے کہہ رہا ہے وہ بت رام ہو گیا
یہ کام ہو گیا تو بڑا کام ہو گیا
اب کل کی کیا خبر ہے کہ گزرے قفس میں کیا
ہونا تھا جو وہ آج تہ دام ہو گیا
ساقی کی چشم مست کے قربان جائیے
جس پر نظر پڑی وہ مے آشام ہو گیا
میں جانتا ہوں غیر نے رسوا کیا تمہیں
یہ تم کہو کہ مفت میں بد نام ہو گیا
صیاد ان گلوں کو سمجھتا ہوں میں قمرؔ
جن کے سبب سے باغ یہ گل دام ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.