Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ سلیمان نہ اس ملک سے کافر آیا

علی میاں کامل لکھنوی

نہ سلیمان نہ اس ملک سے کافر آیا

علی میاں کامل لکھنوی

MORE BYعلی میاں کامل لکھنوی

    نہ سلیمان نہ اس ملک سے کافر آیا

    عدم آباد سے پھر کر نہ مسافر آیا

    گور پر میرے جنازے کو احبا لائے

    للہ الحمد کہ منزل پہ مسافر آیا

    کمر یار کی تصویر کسی سے نہ کھنچی

    ایک سے ایک زمانے میں مصور آیا

    دی نہ آنکھوں میں اترنے کی جگہ کیا باعث

    قافلہ خون جگر کا متواتر آیا

    کل مجھے جنس فضائل سے ہو کیا چشم امید

    آج تک کون خریدار جواہر آیا

    ہنس کے کنگھی کے لئے بال جو کھولے اس نے

    صاعقہ گرنے لگا ابر سیہ گھر آیا

    اشک ہمراہ نہ لائے تو ہوا کیا حاصل

    لخت دل آنکھوں میں اٹھ بیٹھ کے آخر آیا

    ہاتھ پھیلائے ہوں آؤ تو گلے سے مل لوں

    لیجئے وقت خدا حافظ و ناصر آیا

    دھیان اس شوخ کا میں کر نہیں سکتا کاملؔ

    رات کس ناز سے تا حجلۂ خاطر آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے