معلوم نہیں مجھ کو کدھر لے کے گئی ہے
معلوم نہیں مجھ کو کدھر لے کے گئی ہے
منزل مری کیوں میرا سفر لے کے گئی ہے
دہلیز پہ آئی تھی وہ کشکول اٹھائے
قسمت مری گم گشتہ نظر لے کے گئی ہے
اک موج جو سیلاب سے آئی تھی اچانک
آئی تھی ادھر مجھ کو ادھر لے کے گئی ہے
وہ نیند دریچوں سے جو لپٹی رہی شب بھر
لے جانے دو وہ خواب اگر لے کے گئی ہے
پھر تیرگی میں میں نے ترا نام پکارا
پیغام وفا باد سحر لے کے گئی ہے
آنکھوں کے دریچوں پہ ترے نام کی چلمن
پھر مجھ کو ترے عشق نگر لے کے گئی ہے
یہ زندگی جب موت کی آغوش میں آئی
ہر خاک بسر تشنہ بشرؔ لے کے گئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.