میں دل کی شاہی میں خوش ہوں دل اس کی شاہی میں
میں دل کی شاہی میں خوش ہوں دل اس کی شاہی میں
سو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں سر کڑاہی میں
یہ جتنی تیزی سے آباد ہو رہی ہے زمیں
زیادہ وقت نہیں رہ گیا تباہی میں
وہ چہرہ ہٹ گیا کھڑکی سے بجلی آتے ہی
علاقہ ڈوب گیا ایک دم سیاہی میں
نہ ہونے والے حوادث کا ڈر نہ خوف ضرر
عجیب فائدے ہوتے ہیں کم نگاہی میں
کسی کی حفظ و اماں بن رہی ہے میرا جنوں
اسے تباہ نہ کر دوں میں خیر خواہی میں
وہ مر چکا ہے کسی پر سو لڑ نہیں سکتا
مگر یہ کہنے کی ہمت نہیں سپاہی میں
ہمارے حق میں فقط ایک شخص پیش ہوا
اور آ کے کچھ بھی نہیں کہہ سکا گواہی میں
نظام ذات سلیقے سے چل سکے گا اگر
دماغ کام کرے دل کی سربراہی میں
Aakhiri Tasveer
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.