Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترے خیال نے بخشی تھی جو خوشی نہ رہی

واصف علی واصف

ترے خیال نے بخشی تھی جو خوشی نہ رہی

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    ترے خیال نے بخشی تھی جو خوشی نہ رہی

    تمھارے غم میں جو شامل تھی دلکشی نہ رہی

    بڑے قریب سے دیکھی تھی ہم نے صبح امید

    قریب تر ہوئے جب ہم وہ روشنی نہ رہی

    تم اپنے عہد جوانی کو رو رہے ہو مگر

    ہم اپنے حال پہ روتے ہیں زندگی نہ رہی

    بڑے وثوق سے ہم میکدے میں آئے تھے

    نگاہ ساقی جو اٹھی تو تشنگی نہ رہی

    ہزار کہئے کہ یہ آگ دل لگی میں لگی

    جب آگ لگ گئی دل میں تو دل لگی نہ رہی

    وطن وطن تھا مرے ساتھ جو ہوا سو ہوا

    دیار غیر میں کیا آبرو رہی نہ رہی

    وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آنے والے ہیں

    یہ اور بات کہ آنکھوں میں جان ہی نہ رہی

    طلب طلب ہے مگر دور بد نصیب سا ہے

    کہ خواجگی تو رہی بندہ پروری نہ رہی

    مری نوشت میں تھی خاک دو جہاں ورنہ

    تمہارے فیض کرم میں تو کچھ کمی نہ رہی

    محیط تھی مری ہستی پہ وہ نگاہ کرم

    بنی تھی بات مگر تا بہ کے بنی نہ رہی

    وہ ایک بات کہ جس پر نثار تھا واصفؔ

    وہ بات جان تمنا کو یاد ہی نہ رہی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے