میں اپنا ذہن اپنی نظر بیچتا رہا
میں اپنا ذہن اپنی نظر بیچتا رہا
کاغذ کے تاجروں میں ہنر بیچتا رہا
اتنا دبا ہوا تھا ضرورت کے بوجھ سے
مٹی کے مول لعل و گہر بیچتا رہا
اپنے لیے خرید نہ پایا کوئی کرن
اور دوسروں کو خواب سحر بیچتا رہا
کس طرح منزلیں مرے قدموں کو چومتیں
میں راستے میں زاد سفر بیچتا رہا
بھرتا اگر اڑان تو کیا کھاتا آشناؔ
اڑنے کو پر بناتا تھا پر بیچتا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.