کیوں کر پھروں ہوں اب بھی ترے آس پاس میں
کیوں کر پھروں ہوں اب بھی ترے آس پاس میں
برسوں رہا ہوں پا کے تجھے بد حواس میں
اب چاند کیا ستارے بھی آتے نہیں نظر
رکھوں بھی روشنی کی کوئی کیسے آس میں
خوشبو بھی آس پاس بھٹکتی نہیں مرے
تکتا ہوں ایک پھول کو بیٹھا اداس میں
کہنے کو تیرے ساتھ رہا ہوں اے زندگی
لیکن تمام عمر رہا نا شناس میں
ساقی نے میکدے میں سبھی جام بھر دیے
محفل میں لے کے بیٹھا ہوں خالی گلاس میں
اب اس کو اتفاق کہوں یا کہوں نصیب
تو آیا مجھ کو اور نہ کبھی تجھ کو راس میں
وہ تو کبھی قریب ہوا ہی نہیں کبیرؔ
پھرتا رہا ہوں جس کے سدا آس پاس میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.