کوچے میں ان کے آئے تھے کیا حوصلہ لیے
کوچے میں ان کے آئے تھے کیا حوصلہ لیے
اب جا رہے ہیں دوش پہ نعش وفا لیے
احساس کے چراغ کبھی گر جلا لیے
کچھ ظلمتوں نے اور بھی گیسو بڑھا لیے
وہ ڈگمگا چکا ہوں کہ گرنے کی دیر ہے
موہوم آہٹوں سے ہی مجھ کو سنبھالیے
ناسور خواہشوں کے نہ بھر جائیں یہ کہیں
آج آئے ہیں وہ مرہم اشک وفا لیے
جدت میں بھی مری ہے روایت کی لے وہی
دریا میں بھی اترتا ہوں میں آئنہ لیے
بے گانگی کی دھول ہے اور نفرتوں کی دھوپ
اترے کہاں تم آرزو کا قافلہ لیے
یہ شہر بے حساں ہے شرر ہے نظر نظر
خاشاک آرزو کو سر رہ نہ ڈالیے
اب کیوں جلا رہے ہو لب و رخ کی مشعلیں
جب یاد کے دریچوں پہ پردے گرا لیے
کوئی حدیث مرگ تبسم نہ سن سکا
مرتی رہی حیات غم جاں گزا لیے
یارو کہیں ہو شیشے کی دیوار تو بتاؤ
مدت سے پھر رہا ہوں میں سنگ صدا لیے
یہ پاگلوں کی بھیڑ نعیمیؔ کچل نہ دے
بیٹھا ہوں صبح کو بھی سر رہ دیا لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.