Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کوچے میں ان کے آئے تھے کیا حوصلہ لیے

عبد الحفیظ نعیمی

کوچے میں ان کے آئے تھے کیا حوصلہ لیے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    کوچے میں ان کے آئے تھے کیا حوصلہ لیے

    اب جا رہے ہیں دوش پہ نعش وفا لیے

    احساس کے چراغ کبھی گر جلا لیے

    کچھ ظلمتوں نے اور بھی گیسو بڑھا لیے

    وہ ڈگمگا چکا ہوں کہ گرنے کی دیر ہے

    موہوم آہٹوں سے ہی مجھ کو سنبھالیے

    ناسور خواہشوں کے نہ بھر جائیں یہ کہیں

    آج آئے ہیں وہ مرہم اشک وفا لیے

    جدت میں بھی مری ہے روایت کی لے وہی

    دریا میں بھی اترتا ہوں میں آئنہ لیے

    بے گانگی کی دھول ہے اور نفرتوں کی دھوپ

    اترے کہاں تم آرزو کا قافلہ لیے

    یہ شہر بے حساں ہے شرر ہے نظر نظر

    خاشاک آرزو کو سر رہ نہ ڈالیے

    اب کیوں جلا رہے ہو لب و رخ کی مشعلیں

    جب یاد کے دریچوں پہ پردے گرا لیے

    کوئی حدیث مرگ تبسم نہ سن سکا

    مرتی رہی حیات غم جاں گزا لیے

    یارو کہیں ہو شیشے کی دیوار تو بتاؤ

    مدت سے پھر رہا ہوں میں سنگ صدا لیے

    یہ پاگلوں کی بھیڑ نعیمیؔ کچل نہ دے

    بیٹھا ہوں صبح کو بھی سر رہ دیا لیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے