دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری
دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری
ناحق کبھی اٹھی نہیں تلوار ہماری
پل بھر میں گرا دی گئی دیوار ہماری
برسوں کی ریاضت گئی بیکار ہماری
دنیا سے لڑے جیت مقدر ہوئی لیکن
پھر رزم محبت میں ہوئی ہار ہماری
جسموں کی قرابت میں کہیں روح نہیں تھی
تم تھے بھی تو تنہائی تھی غم خوار ہماری
ہم عشق کو بھی دین دھرم سمجھے تھے لیکن
رسوائی مقدر بنی ہر بار ہماری
کچھ اس لئے بھی بھر گیا دل ہم سے تمہارا
وافر تھی بہت پیار کی مقدار ہماری
ہر شخص اٹھا کر ہمیں رکھ دیتا ہے فیصلؔ
قیمت ہی نہیں جانتا بازار ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.