چراغ درد بجھاؤ کہ رات ختم ہوئی
چراغ درد بجھاؤ کہ رات ختم ہوئی
اب ایک بات چلی ایک بات ختم ہوئی
عروس صبح کو اشکوں کے ہار پہناؤ
ہزاروں تارے بجھے ہیں تو رات ختم ہوئی
اب اشک خوں سے ادا کر رہا ہوں کفارہ
وہ قہقہوں سے کھنکتی حیات ختم ہوئی
خموشیوں کو بنایا ہے مدعا جب سے
سخن طراز نگاہوں کی بات ختم ہوئی
نہ جانے سوچ کے کیا میں نے خودکشی کی تھی
بجھی نہ شمع نہ یہ کائنات ختم ہوئی
یہ اتفاق بھی میری طرف اشارہ ہے
چلی گلوں سے تو کانٹوں پہ بات ختم ہوئی
حرم سے خیر من النوم کی صدا آئی
اٹھو اٹھو کہ شب سومنات ختم ہوئی
صلیب لاؤ پیمبر ہوں میں محبت کا
لگاؤ آگ کہ پانی کی بات ختم ہوئی
مسل کے پھول نعیمیؔ مناؤ جشن بہار
وہ احترام گلستاں کی بات ختم ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.