آنے والی ہے رات شام ہوئی
آنے والی ہے رات شام ہوئی
روشنی بس یہیں تمام ہوئی
کس کو ہونا تھا میرے نام مگر
کیسی محرومی میرے نام ہوئی
بے بسی نے لگا دی یاس پہ مہر
حجت امید کی تمام ہوئی
ایک بوڑھی یقین کی دنیا
ایک پل میں خیال خام ہوئی
چھوڑ دی ضبط نے بھی زخم کی باگ
ٹیس بھی کھل کے بے لگام ہوئی
موج در موج صف بہ صف ہوئے غم
زندگی سب کی پیش امام ہوئی
خوش ہوا خوں جلا کے دل بھی سفیرؔ
چشم گریہ بھی شاد کام ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.