Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جن پر بھی آپ مائل لطف و کرم ہوئے

ضامن جعفری

جن پر بھی آپ مائل لطف و کرم ہوئے

ضامن جعفری

MORE BYضامن جعفری

    دلچسپ معلومات

    غالب کا مصرع طرح ’’وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے‘‘۔

    جن پر بھی آپ مائل لطف و کرم ہوئے

    وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے

    مجنوں بہت شریف تھے راضی بہ غم ہوئے

    لیلیٰ تھیں خوش نصیب کہ وہ تھے نہ ہم ہوئے

    یہ سب سفیر مغربی جمہوریت کے ہیں

    راکٹ ہوئے جہاز ہوئے ٹینک بم ہوئے

    وہ مسکرا کے دیکھ رہے ہیں رقیب کو

    لگتا ہے یہ بھی راہی ملک عدم ہوئے

    تاریخ ہے گواہ کہ دربار حسن میں

    گڑبڑ ہوئی ہے دیدہ و دل جب بہم ہوئے

    نقش قدم پہ جب اسداللہ کے چلے

    جام سفال جتنے بھی تھے جام جم ہوئے

    دو روزہ زندگی میں کہاں ہوں گے یہ گناہ

    جو لکھے وہ بتائے کہ کیسے رقم ہوئے

    جب ارتباط اس نگہ ناز سے بڑھا

    احباب بھی ہمارے بتدریج کم ہوئے

    انسانیت پہ ظلم ہوئے ہیں جو آج تک

    سارے بہ نام عدل خدا کی قسم ہوئے

    ضامنؔ سبھی ہیں عظمت غالبؔ کے معترف

    وہ تم ہوئے کہ ذوقؔ ہوئے یا وہ ہم ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے