جن پر بھی آپ مائل لطف و کرم ہوئے
دلچسپ معلومات
غالب کا مصرع طرح ’’وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے‘‘۔
جن پر بھی آپ مائل لطف و کرم ہوئے
وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
مجنوں بہت شریف تھے راضی بہ غم ہوئے
لیلیٰ تھیں خوش نصیب کہ وہ تھے نہ ہم ہوئے
یہ سب سفیر مغربی جمہوریت کے ہیں
راکٹ ہوئے جہاز ہوئے ٹینک بم ہوئے
وہ مسکرا کے دیکھ رہے ہیں رقیب کو
لگتا ہے یہ بھی راہی ملک عدم ہوئے
تاریخ ہے گواہ کہ دربار حسن میں
گڑبڑ ہوئی ہے دیدہ و دل جب بہم ہوئے
نقش قدم پہ جب اسداللہ کے چلے
جام سفال جتنے بھی تھے جام جم ہوئے
دو روزہ زندگی میں کہاں ہوں گے یہ گناہ
جو لکھے وہ بتائے کہ کیسے رقم ہوئے
جب ارتباط اس نگہ ناز سے بڑھا
احباب بھی ہمارے بتدریج کم ہوئے
انسانیت پہ ظلم ہوئے ہیں جو آج تک
سارے بہ نام عدل خدا کی قسم ہوئے
ضامنؔ سبھی ہیں عظمت غالبؔ کے معترف
وہ تم ہوئے کہ ذوقؔ ہوئے یا وہ ہم ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.