رسم دنیا بھی ہے کیا خوب نبھائی میں نے
رسم دنیا بھی ہے کیا خوب نبھائی میں نے
ہم نشیں تیرے لئے بزم سجائی میں نے
دیپ سے دیپ شب و روز جلائے رکھنا
یہ روایت بھی ہے کیا خوب نبھائی میں نے
آ ذرا دیکھ یہاں کتنا سکوں ملتا ہے
جب کہ ویرانے میں دنیا ہے بسائی میں نے
ایک مدت سے اتر پایا نہ باتوں کا خمار
شام جو آپ کی قربت میں بتائی میں نے
گود سے گور تلک جو بھی خوشی پائی تھی
آخرش پیار میں اے دوست لٹائی میں نے
عمر بھر اس میں ہمیں اشک ملے آہیں ملیں
جانے کس کس کو کہانی یہ سنائی میں نے
وہ بضد ہے کہ اسے پھاڑ دوں اب ہاتھوں سے
نو برس میں ہے جو تصویر بنائی میں نے
بے بسی دیکھ مری اپنی ہی میت رو کر
اپنے ہاتھوں سے مرے دوست اٹھائی میں نے
مجھ سے ناراض ہے وہ کس کو بتاؤں قیصرؔ
جس کی خاطر ہے سبھی دنیا بھلائی میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.