تو اپنے شعر کی بنیاد بول چال پہ رکھ
تو اپنے شعر کی بنیاد بول چال پہ رکھ
پھر اس کے بعد نگاہ و نظر خیال پہ رکھ
ترے بیان سے آئے گی بو صداقت کی
جو ہو سکے تو یہ فکر سخن کمال پہ رکھ
ہزار رنگ ہیں اظہار کے زمانے میں
غزل کو ناز سے انداز خوش خصال پہ رکھ
ادب کا جوہر نایاب بھی نظر آئے
ہر ایک لفظ کو میزان اعتدال پہ رکھ
نہ دیکھ جرم مرا حرف اعتراف کے بعد
نہ بوجھ اور خدایا شکستہ حال پہ رکھ
ہنر یہی ہے کہ لمحے کو عمر کر دینا
یہ ہاتھ ہاتھ میں اور گال میرے گال پہ رکھ
ہوں تیرے در سے امید کرم لیے بیٹھا
کبھی نگاہ بھی محتاج کے سوال پہ رکھ
میں شاہکار ہوں تیرا مگر مرے مولا
میں آفتاب نہیں ہوں مجھے زوال پہ رکھ
جو تجھ کو منزل مقصود تک پہنچنا ہے
کبھی یقین کو اپنے نہ احتمال پہ رکھ
نہ کر سکے غم دوراں کبھی بھی افسردہ
یقیں رئیسؔ فقط رب ذو الجلال پہ رکھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.