حساب جسم کی عزت در و دیوار سے ہے
حساب جسم کی عزت در و دیوار سے ہے
دلوں پر حکمرانی تو فقط کردار سے ہے
گلوں کی نازکی دو چار دن تک ساتھ دے گی
ہمیشہ ساتھ دینے کی طلب بس خار سے ہے
فقیری کا شہنشاہی سے کوئی میل کیا ہے
دعاؤں سے یہاں رغبت وہاں تلوار سے ہے
تمہارے جیسا بننے کا نہیں ہے شوق مجھ کو
مری پہچان میرے جبہ و دستار سے ہے
ہم آسائش میں آخر بھول جائیں کیوں برے دن
ہماری جیت کا رشتہ ہماری ہار سے ہے
ہماری سوچ کو دے دے کہیں ٹھہراؤ یارب
ہمارا سامنا پستی سے ہے رفتار سے ہے
ہمیں گوشہ نشینی میں بھی مل جاتی ہے شہرت
ہمارا سلسلہ آذرؔ حرا کے غار سے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.