یہ ہاتھ میں ترے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
یہ ہاتھ میں ترے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
نجومیوں نے بتایا کہ کاتب تقدیر
مرا نصیب ستاروں میں رکھ کے بھول گیا
ہزار چہرے جو بدلے تو کھو گیا چہرہ
میں اپنا جسم لباسوں میں رکھ کے بھول گیا
نہ جانے کون سے پیالے میں آب کوثر تھا
یہیں کہیں میں شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
ہے یاد آج بھی دفتر کا ایک اک کاغذ
پر اپنے خواب درازوں میں رکھ کے بھول گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.