مچھلی کی طرح جال سے لپٹا ہوا ہوں میں
مچھلی کی طرح جال سے لپٹا ہوا ہوں میں
تیرے ہی ایک خیال سے لپٹا ہوا ہوں میں
کیوں تجھ کو جاننے میں مجھے دیر لگ گئی
اب تک اسی سوال سے لپٹا ہوا ہوں میں
یہ جانتے ہوئے کی تو میرا نہ ہو سکا
پھر بھی ترے جمال سے لپٹا ہوا ہوں میں
ویسے تو میرے ساتھ بہت حادثے ہوئے
پر تیرے ہی ملال سے لپٹا ہوا ہوں میں
یہ خواب ہے مرا تو ترنؔ خواب ہی سہی
پر حسن بے مثال سے لپٹا ہوا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.