کب تک اپنی آنکھوں کو تو خوابوں سے بہلائے گا
کب تک اپنی آنکھوں کو تو خوابوں سے بہلائے گا
مایوسی کا منظر اک دن آنکھوں کو دکھ جائے گا
کوئی اس رستے پر چل کے پا لے گا اپنی منزل
لیکن کوئی اس رستے کے کانٹوں سے گھبرائے گا
یوں تو رکھتے ہیں اس دل کو اپنے قابو میں ہر دم
پر دے ہی دیں گے دل اس کو جو سینے سے لگائے گا
اہل دنیا کو تجھ سے یوں تو لاکھوں امیدیں ہیں
مانا سب ہے بس میں تیرے تو کیا کیا سلجھائے گا
کیسے کہہ دوں یہ دلکش فن بس تجھ کو ہی حاصل ہے
اور بھی شاعر ہیں جن کو تو سنتے ہی مسکائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.