اک نئی شکل مرے ذہن میں بن آئی ہے
اک نئی شکل مرے ذہن میں بن آئی ہے
تیرے ٹوٹے ہوئے لفظوں میں وہ گہرائی ہے
یہ تری چشم صحیفہ یہ مرا کافر دل
اب بھی دونوں میں عجب صورت یکجائی ہے
دل جو کہتا ہے کہ تعبیر بھی ہوگی کوئی
یہ مرے ٹوٹے ہوئے خواب کی پسپائی ہے
اس کے بالوں میں کسی اور کی پونی ہوگی
تار پر اوڑھنی جس پھول نے پھیلائی ہے
میرے نغموں میں کبھی تیری تپش گھل نہ سکی
یہ ترے ابھرے ہوئے پھولوں کی رسوائی ہے
یہ جو اک پیڑ ہے اک دھوپ میں مرجھاتا ہوا
اس میں پوشیدہ کسی عکس کی تنہائی ہے
میری آواز میں پنہاں ہے مری خاموشی
اور مرے جھوٹ میں شامل مری سچائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.