حسین رت تھی مگر اضطراب آنکھوں میں
حسین رت تھی مگر اضطراب آنکھوں میں
ترے خیال کا اترا عذاب آنکھوں میں
اندھیری رات ہے تاروں کو گن رہی ہوں میں
نہ جانے آئیں گے کب تیرے خواب آنکھوں میں
نظر نظر سے سوالات لاکھ کر لے مگر
زمانے والے نہ پڑھ لیں جواب آنکھوں میں
تصورات کی دنیا میں آ گئے ہیں وہ
مسرتوں کے کھلے ہیں گلاب آنکھوں میں
کرو نہ وعدہ تمہیں گر نبھانا ہو مشکل
رہو گے ورنہ یونہی آب آب آنکھوں میں
چھپا لو آنکھوں کو غیروں سے اپنی اے مہروؔ
جھلک رہا ہے تمہارا حجاب آنکھوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.