ذرا سی بات پہ ہر اک روایت توڑ آیا تھا
ذرا سی بات پہ ہر اک روایت توڑ آیا تھا
اسے چھوڑا نہیں خود کو اسی میں چھوڑ آیا تھا
خلا کے پار پھر اپنی ہی تہہ میں بھی تلاشا پر
نہ زخموں کا کوئی مرہم نہ غم کا توڑ آیا تھا
کوئی آئے کوئی جائے کہانی تب یہ کھلتی ہے
کسی نے مجھ کو چھوڑا میں کسی کو چھوڑ آیا تھا
گلہ اب کس لیے آننؔ کروں بھی تو کروں کس سے
کہ اپنا نام خود ہی آندھیوں سے جوڑ آیا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.