خورشید بنایا نہ قمر ہم نے بنایا
خورشید بنایا نہ قمر ہم نے بنایا
انسان کو انسان مگر ہم نے بنایا
ہو کوئی مسبب مگر اسباب ہمیں ہیں
دنیا کو بہ الفاظ دگر ہم نے بنایا
پرواز تخیل میں کبھی عرش سے گزرے
تاروں کو کبھی گرد سفر ہم نے بنایا
دنیا کی حقیقت تو حقیقت میں نہیں تھی
شائستۂ ارباب نظر ہم نے بنایا
تنکوں کو کیا جمع بہ انداز نشیمن
یہ شعبدۂ برق و شرر ہم نے بنایا
اس گردش کونین کی بنیاد ہمیں ہیں
یہ سلسلۂ شام و سحر ہم نے بنایا
دنیا میں رہے بھی تو نہ رہنے کے برابر
دنیا کو فراموش نظر ہم نے بنایا
یہ جرأت تعمیر غلط ہم سے ہوئی تھی
منزل پہ نہیں راہ میں گھر ہم نے بنایا
اے جوشؔ محبت تو تھی اک خواب مسلسل
اس خواب کو تعبیر اثر ہم نے بنایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.