کچھ ہم نے کبھی دہر سے مانگا بھی نہیں ہے
کچھ ہم نے کبھی دہر سے مانگا بھی نہیں ہے
اور اپنی انا کا یہ تقاضا بھی نہیں ہے
یہ کیسے کہوں ساتھ نبھاؤں گا ہمیشہ
کب زیست دغا دے دے بھروسہ بھی نہیں ہے
کیوں ہو نہ زمانے کو مرے عشق پہ حیرت
شیدائی ہوں اس کا جسے دیکھا بھی نہیں ہے
ہیں خوف زدہ ایسی چراغوں کی لویں کیوں
کچھ تیز ہوا کا ابھی جھونکا بھی نہیں ہے
اوسان کو جذبات میں کھونا ہے یہ وارثؔ
دے بیٹھے اسے دل جسے پرکھا بھی نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.