Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ ہم نے کبھی دہر سے مانگا بھی نہیں ہے

محی الدین وارث

کچھ ہم نے کبھی دہر سے مانگا بھی نہیں ہے

محی الدین وارث

MORE BYمحی الدین وارث

    کچھ ہم نے کبھی دہر سے مانگا بھی نہیں ہے

    اور اپنی انا کا یہ تقاضا بھی نہیں ہے

    یہ کیسے کہوں ساتھ نبھاؤں گا ہمیشہ

    کب زیست دغا دے دے بھروسہ بھی نہیں ہے

    کیوں ہو نہ زمانے کو مرے عشق پہ حیرت

    شیدائی ہوں اس کا جسے دیکھا بھی نہیں ہے

    ہیں خوف زدہ ایسی چراغوں کی لویں کیوں

    کچھ تیز ہوا کا ابھی جھونکا بھی نہیں ہے

    اوسان کو جذبات میں کھونا ہے یہ وارثؔ

    دے بیٹھے اسے دل جسے پرکھا بھی نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے