Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں

احمد سلمان

شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں

احمد سلمان

MORE BYاحمد سلمان

    شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں

    زعم عیسیٰ گریزی میں جو بھی ہوا میں نے ہونے دیا میں نے غزلیں کہیں

    لوگ چیخا کئے وہ جو معبود ہے بس اسی کی ثنا بس اسی کی ثنا

    میری شہ رگ سے میرے خدا نے کہا مجھ کو اپنی سنا میں نے غزلیں کہیں

    حبس بے جا میں تھی شہر کی جب ہوا آپ جیتے رہے آپ کا حوصلہ

    میں اصولوں وغیرہ کا مارا ہوا مجھ کو مرنا پڑا میں نے غزلیں کہیں

    کوئی دکھ بھی نہ ہو کوئی سکھ بھی نہ ہو اور تم بھی نہ ہو اور مصرع کہیں

    ایسا ممکن نہیں ایسا ہوتا نہیں لیکن ایسا ہوا میں نے غزلیں کہیں

    عشق دو ہی ملے میں نے دونوں کیے اک حقیقی کیا اک مجازی کیا

    میں مسلمان بھی اور سلمانؔ بھی میں نے کلمہ پڑھا میں نے غزلیں کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے