دل ان سے جو مانگا تو پشیمان ہوئے ہم
دل ان سے جو مانگا تو پشیمان ہوئے ہم
نادان تھے نادان تھے نادان ہوئے ہم
ہم تجھ کو دکھا دیتے خدائی کا تماشہ
سو باتوں کی اک بات کہ انسان ہوئے ہم
جب سے تری چوکھٹ پہ جھکایا ہے جبیں کو
ہم رند بنے مستیٔ عرفان ہوئے ہم
ہر چہرے میں آتا ہے نظر اپنا ہی چہرہ
خود آئنہ خود دیدۂ حیران ہوئے ہم
یوں دل میں لئے پھرتے ہیں تصویر تمہاری
جیسے کسی کعبے کے نگہبان ہوئے ہم
وعدہ ہے ملاقات کا اب آنا پڑے گا
اے جان تری یاد میں بے جان ہوئے ہم
اس پردۂ ہستی کو کیا چاک تو دیکھا
انسان کہاں مظہر یزدان ہوئے ہم
پہچان گئے تجھ کو زلیخائے زمانہ
بدنام ہوئے یوسف کنعان ہوئے ہم
اک بت کی پرستش میں کھلا راز یہ واصفؔ
کافر جو ہوئے حافظ قرآن ہوئے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.